ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / موصل میں شہریوں کی ہلاکتیں، عراقی فورسز نے لڑائی روک دی

موصل میں شہریوں کی ہلاکتیں، عراقی فورسز نے لڑائی روک دی

Mon, 27 Mar 2017 12:24:28    S.O. News Service

داعش کے خلاف19 فروری سے جاری مہم کے دوران میں تقریباً 700 شہریوں کی ہلاکتیں
بغداد،26؍مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)عراق کی سکیورٹی فورسز نے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے کو بازیاب کرانے کے لیے داعش کے خلاف لڑائی عارضی طور پر روک دی ہے اور اس نے یہ فیصلہ شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے پیش نظر کیا ہے۔عراق کی وفاقی پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ موصل کے قدیم شہر میں شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑی تعدادکے پیش نظرہم جنگی کارروائیوں کو روکنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ نئے جنگی منصوبوں اورحربوں پرغورکیاجائے۔فی الحال (داعش کے خلاف) کوئی جنگی کارروائیاں نہیں کی جارہی ہیں‘‘۔ترجمان کا کہنا ہے:’’ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ داعش کو قدیم شہر سے نکال باہر کرنے کی کارروائی میں شہریوں کی ہلاکتیں نہ ہوں۔ہمیں داعش کو ٹھیک ٹھیک ہدف بنانے کے لیے سرجیکل کارروائیوں کی ضرورت ہے تاکہ مکینوں کا بالکل بھی ضمنی جانی نقصان نہ ہو‘‘۔مغربی موصل سے جانیں بچا کر راہ فرار اختیار کرنے والے مکینوں نے بتایا ہے کہ عراقی طیاروں اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں میں بہت زیادہ عمارتیں اور مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں اور ان میں شہریوں کی سیکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوشہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور اگر وہ ان کے زیر قبضہ علاقوں سے بھاگ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔مقامی حکام اور شہر کے مکینوں نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ داعش کے خلاف ایک فضائی حملے میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں اور زوردار دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بیسیوں افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ابھی تک تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں سے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔ امریکی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس فضائی حملے میں تباہ کاریوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔عراقی فوج نیسرکاری روزنامے الصباح میں شائع شدہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اب موصل کے مغربی حصے میں مزید کارروائیاں اعلیٰ تربیت یافتہ زمینی دستے کریں گے اور شہریوں کے جانی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔موصل کی تنگ وتاریک گلیوں میں عراقی فورسز کو داعش کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔دریں اثناء امریکی فوج کے بریگیڈئیر جنرل جان رچرڈسن نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچاؤ’’ جنگی حربے میں تبدیلی ہی میں مضمر ہوسکتا ہے۔عراقی فوج قدیم شہر کو الگ تھلگ کرنے کے لیے داعش کے خلاف ایک اور جنگی محاذ کھولنے پر غور کررہی ہے‘‘۔دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع موصل کے غربی حصے میں اس وقت چھے لاکھ کے لگ بھگ شہری موجود ہیں اور ان کی وجہ سے عراقی فورسز کو گنجان آباد علاقوں میں داعش کے خلاف کارروائی میں دشواری کا سامنا ہے۔شہر میں صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔مکینوں کو پانی ،بجلی اور خوراک کی عدم دستیابی کاسامناہے اورہر دم موت ان کا تعاقب کررہی ہے۔قدیم شہر میں داعش کے مضبوط گڑھ نوری مسجد کے ارد گرد کی عمارتوں کی چھتوں پرماہرنشانہ بازوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔حالیہ دنوں میں وہ چھتوں سے عراقی فورسز کی جانب فائر کرتے رہے ہیں جبکہ عراقی اور امریکی اتحاد کے لڑاکا طیارے انھیں فضائی حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں جن میں داعش کا کم اور عام شہریوں کازیادہ جانی نقصان ہواہے۔عراقی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ مغربی موصل میں داعش کے خلاف 19 فروری کو مہم کے آغاز کے بعد سے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سات سو کے لگ بھگ شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔وہ عراقی فورسزاور داعش کے درمیان لڑائی میں مارے گئے ہیں یا پھر اتحادی فوج کے فضائی حملوں میں ہدف بنے ہیں۔نوری مسجدکوداعش کے لیے ایک بڑی علامتی حیثیت حاصل ہے۔اگر اس مسجد پر عراقی فورسز کا قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ داعش کے لیے بڑا دھچکا ہوگا اور ایک طرح سے اس کی شکست کا مظہر بھی ہوگا کیونکہ یہیں سے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی نے جون 2014ء4 میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا اور پھر داعش کے جنگجوؤں نے آناً فاناً عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پرقبضہ کر لیا تھا۔ابوبکر البغدادی مبینہ طور پر اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کے ساتھ موصل سے فرار ہوچکے ہیں اور وہ عراق اورشام کے درمیان واقع علاقے میں کہیں چھپے ہوسکتے ہیں۔


Share: